Текст песни
جونم صحابہ جونم، جونم صحابہ جونم، صحابہ。 اسلام پہ تن من تن اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل کو سلام آیا۔ اسلام پہ تن من تن اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل ان کو سلام آیا۔ او صاف فرشتوں سے، پر اصل میں تھے وہ بشر، اعمال حسیے سے، دکھتے تھے وہ رشک قمر۔ او صاف فرشتوں سے، پر اصل میں تھے وہ بشر، اعمال حسیے سے، دکھتے تھے وہ رشک قمر۔ جس جہاں پہ وہ رکھتے قدم، ہو جاتی وہاں پہ سحر، ایسے نہیں میا رے، حق ان کو ہے پہرایا، حق ان کو ہے پہرایا۔ اسلام پہ تن من تن اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل کو سلام آیا۔ توحید کے نعروں سے، تسخیر کیا یہ جہاں، ایمان کی شمع سے پھر، دنیا کو کیا تباہ۔ توحید کے نعروں سے، تسخیر کیا یہ جہاں، ایمان کی شمع سے پھر، دنیا کو کیا تباہ۔ دردی پہ نہ باقی رہا، فتنوں کا کوئی بھی نشان، اسلام کو بنا آخر، گر غالب دکھلایا، دکھلایا۔ اسلام پہ تن تن اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل ان کو سلام آیا۔ چھوڑا نہ کوئی صحرا، نہ دشت رہا باقی، اصحاب کے گھوڑوں کی، قرآن قسم کھائی۔ چھوڑا نہ کوئی صحرا، نہ دشت رہا باقی، اصحاب کے گھوڑوں کی، قرآن قسم کھائی۔ ہیبت سے صحابہ کی، یہ ارض سمٹ جاتی، دھڑاکے سے بت ان کی، سن کر کوہ ناچ سدا، سن کر کوہ ناچ سدا۔ اسلام پہ تن من اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل ان کو سلام آیا۔ تھے زہد و قناعت ور، تقوی کے سبھی پیکر، بے باکی اور جرات کے، اور جد کے بھی ہو گر۔ تھے زہد و قناعت ور، تقوی کے سبھی پیکر، بے باکی اور جرات کے، اور جد کے بھی ہو گر۔ دن چھڑتا محاذوں میں، شب ڈرتی مسلے پر، تا دم آخر ساری، یونہی پہ دیا پہرا، یونہی پہ دیا پہرا۔ اسلام پہ تن من اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل ان کو سلام آیا۔ اسلام پہ تن من تن اصحاب نے یوں آرا، گر دوست میرے رب کا دل ان کو سلام آیا۔
Hafiz Naimat Ullah Rasheed — Ashab Nai Yun Wara
«Ashab Nai Yun Wara» — Hafiz Naimat Ullah Rasheed. Читайте текст песни и подпевайте с караоке-подсветкой: строки текста подсвечиваются в такт музыке. Слушайте онлайн бесплатно или скачайте mp3. Длительность записи — 3:58. Жанр — Этническая.
