Chal Yar Kahi Chalte Hai
Chal Yar Kahi Chalte HaiТекст песни
ہاں ہاں ہاں。 یار میرے یار میرے یار میرے یار میرے۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ امید نہیں ہے۔ کوئی یہاں ہر ایک نشوں میں کھویا ہے۔ امید نہیں ہے۔ کوئی یہاں ہر ایک نشوں میں کھویا ہے۔ ہے، فتح سے برا ڈھونڈیں گے۔ جہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ مایوس نہیں ہے۔ اللہ سے وہ ہم کو سکون بھی بخشے گا۔ مایوس نہیں ہے۔ اللہ سے وہ ہم کو سکون بھی بخشے گا۔ اللہ سے جڑے ہیں۔ ہیں اچھو ہوا چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ سب اپنے مشاغل میں ہیں۔ ہیں لگے سب اپنے محافل میں ہیں۔ لگے سب اپنے مشاغل میں ہیں۔ ہیں لگے سب اپنے محافل میں ہیں۔ لگے کوئی دے گا۔ ہمیں یا وقت کہاں؟ چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ امت کو تڑپتا دیکھا ہے۔ امت کو ہنستا بھی دیکھیں گے۔ امت کو تڑپتا دیکھا ہے۔ امت کو ہنستا بھی دیکھیں گے۔ اپنے ہی بہت آنکھوں میں نوا چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ میں دل سے باتیں کرتا ہوں۔ میں دل کی باتیں کہتا ہوں۔ میں دل سے باتیں کرتا ہوں۔ میں دل کی باتیں کہتا ہوں۔ ہوں سب کو یہ سنانے اپنی فراء چل یار کہیں ہم جاتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ از ہر سے خفا ہے۔ اپنے بھی از ہر سے خفا ہے۔ پرائے بھی از ہر سے خفا ہے۔ ہم بھی از ہر سے خفا ہے۔ ہیں پرائے بھی ہم کرتے ہیں۔ ہیں اپنی ہم بھی زباں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں ہے۔ اپنا یہاں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔ ہر سند جوانوں کا ہے۔ سماں چل یار کہیں ہم چلتے ہیں۔
Hafiz Naimat Ullah Rasheed, Hafiz Abdullah Arify — Chal Yar Kahi Chalte Hai
«Chal Yar Kahi Chalte Hai» — Hafiz Naimat Ullah Rasheed, Hafiz Abdullah Arify. Читайте текст песни и подпевайте с караоке-подсветкой: строки текста подсвечиваются в такт музыке. Слушайте онлайн бесплатно или скачайте mp3. Длительность записи — 5:16. Жанр — Этническая.
