Rah Gum Karda Ko Manzil Ka Pata Dete Hai
Rah Gum Karda Ko Manzil Ka Pata Dete HaiТекст песни
مصطفی مصطفی。 مصطفی مصطفی مصطفی。 راہ گم کردہ کو منزل کا بتاتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹادیتے ہیں۔ راہ گم کردہ کو منزل کا بتاتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹادیتے ہیں۔ سڑو کو زینت مهتاب بنا دیتے ہیں۔ آپ بندوں کو الہی سے ملا دیتے ہیں۔ شب معراج میں اللہ تمہاری خاطر شب معراج میں اللہ تمہاری خاطر。 حسن سے سارے حجابات ہٹا دیتے ہیں۔ راہ گم کردہ کو منزل کا بتاتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹادیتے ہیں۔ ساتھ لے جاتے ہیں۔ صدیق کو ہجرت کے لیے۔ اور بستر پہ وہ حیدر کو سلا دیتے ہیں۔ آپ جب چلتے ہیں پیغام ہدایت لے کر۔ آپ جب چلتے ہیں پیغام ہدایت لے کر راہ تاریخ سے。 ظلمت کو مٹا دیتے ہیں۔ راہ گم کردہ کو منزل کا بتا دیتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹا دیتے ہیں۔ بے رحم رحم کرم پر کبھی غالب نہ ہوئی。 زخم کھا کر بھی وہ دشمن کو دعا دیتے ہیں تاکہ ہم پھر در اقدس سے کبھی آ نہ سکیں۔ تاکہ ہم پھر در اقدس سے کبھی آ نہ سکیں۔ راہ سے نقش قدم اپنے مٹا دیتے ہیں۔ راہ گم کردہ کو منزل کا بتا دیتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹا دیتے ہیں۔ راہ کردہ کو منزل کا بتا دیتے ہیں۔ نشہ پاک کے ظلمت کو مٹا دیتے ہیں۔ مصطفی。 مصطفی。 مصطفی。
Hafiz Naimat Ullah Rasheed — Rah Gum Karda Ko Manzil Ka Pata Dete Hai
«Rah Gum Karda Ko Manzil Ka Pata Dete Hai» — Hafiz Naimat Ullah Rasheed. Читайте текст песни и подпевайте с караоке-подсветкой: строки текста подсвечиваются в такт музыке. Слушайте онлайн бесплатно или скачайте mp3. Длительность записи — 2:51. Жанр — Этническая.
