Текст песни
نا اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا، نا اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ نا اسے بیتے ہوئے وقت کا قصہ یاد رہا। رات بھر چاند سے کرتے رہے باتیں ہم بھی。 رات بھر چاند سے کرتے رہے باتیں ہم بھی۔ صبح آئی تو فقط درد کا سایہ یاد رہا۔ نا اسے میری وفاؤں کاصلہ یاد رہا۔ نا اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ نہ اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ نہ اسے بیتے ہوئے وقت کا قصہ یاد رہا۔ ہم نے ہر درد کو ہنس کر بھی چھپایا دل میں ۔ہم نے हर درد کو ہنس کر بھی چھپایا دل میں ۔ اس کو بس اپنے ہی ہر وعدے فردا یاد رہا۔ na usey Meri wafaon ka sela Yaad raha na Usey beete hue Waqt ka qissa Yaad raha. ہم نے تاروں سے بھی پوچھا تھا سبب دوری کیا؟ ہم نے تاروں سے بھی पूछा تھا سبب دوری کیا؟ رات ڈھلتی رہی، بس تیراہی چہرہ یاد رہا۔ نا اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ نہ اسے بیتے ہوئے وقت کا قصہ یاد رہا۔ وہ جو کہتا تھا کبھی چھوڑ کے جاؤں گا نہیں وہ جو کہتا تھا کبھی چھوڑ کے جائوں گا۔ نہیں وقت بدلا تو اسے اپنی ہی وعدہ نہ یاد رہا۔ نا اسے میری وفا کا صلہ یاد رہا۔ نہ اسے بیتے ہوئے وقت کا قصہ یاد رہا۔ ہم نے چاہا تھا اسے ٹوٹ کے دنیا کی طرح۔ ہم نے چاہا تھا۔ تھا اسے ٹوٹ کے دنیا کی طرح۔ وہ مگر ہم سے بچھڑنے کا بہانا یاد رہا۔ نہیں میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ نہ اسے بیٹے ہوئے وقت का قصہ یاد رہا۔ نہ اسے میری وفاؤں کا صلہ یاد رہا۔ ناں بھی стихо твоє
Hafiz Naimat Ullah Rasheed — Wafaon Ka Sila
«Wafaon Ka Sila» — Hafiz Naimat Ullah Rasheed. Читайте текст песни и подпевайте с караоке-подсветкой: строки текста подсвечиваются в такт музыке. Слушайте онлайн бесплатно или скачайте mp3. Длительность записи — 6:15. Жанр — Этническая.
